العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عيسى بن زيد التِّنِّيسي، حدثنا عمرو بن أبي سَلَمة التِّنِّيسي، أخبرنا عبد الله بن العلاء بن زَبْر، عن يحيى بن أبي المُطاع قال: سمعتُ العِرباضَ بن ساريةَ السُّلَمي يقول: قامَ فينا رسول الله ﷺ ذاتَ غَدَاةٍ فوَعَظَنا موعظةً وَجِلَت منها القلوب، وذَرَفَت منها الأعيُن، قال: فقلنا: يا رسول الله، قد وَعَظْتَنا موعظةَ مودِّع، فاعهَدْ إلينا، قال:"عليكم بتَقوَى الله"، أظنه قال:"والسَّمعِ والطاعة، وسيَرى مَن بعدي اختلافًا شديدًا - أو كثيرًا - فعليكم بسُنَّتي وسُنَّة الخلفاءِ المهديِّين، عَضُّوا عليها بالنَّواجِذ، وإيَّاكم والمُحدَثاتِ، فإنَّ كلَّ بِدْعةٍ ضلالةٌ"(2). ومنهم مَعبَد بن عبد الله بن هشام القُرشي(1)، وليس الطريق إليه من شرط هذا الكتاب، فتركتُه. وقد استقصَيتُ في تصحيح هذا الحديث بعضَ الاستقصاءِ على ما أدَّى إليه اجتهادي، وكنت فيه، كما قال إمامُ أئمة الحديث شُعْبةُ في حديث عبد الله بن عطاء عن عُقْبة بن عامر لمّا طلبه بالبصرة والكوفة والمدينة ومكة، ثم عاد الحديثُ إلى شَهْر بن حَوشَب فتركه، ثم قال شعبةُ: لَأن يَصِحَّ لي مثلُ هذا عن رسول الله ﷺ، كان أحبَّ إلي من والدي ووَلَدي والناس أجمعين. وقد صحَّ هذا الحديثُ. والحمد لله وصلَّى الله على محمدٍ وآله أجمعين.
الترجمة الإنجليزية
Al-'Irbad ibn Sariyah narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) stood among us one morning and admonished us with an admonition that made hearts tremble and eyes shed tears. We said: "O Messenger of Allah, you have admonished us like one bidding farewell, so give us your counsel." He said: "Upon you is the fear of Allah" — I think he also said — "and to listen and obey. Whoever lives after me will see severe disagreement. So hold fast to my Sunnah and the Sunnah of the rightly-guided caliphs. Bite onto it with your molars, and beware of newly invented matters, for every innovation is misguidance." Al-Hakim said: I have thoroughly verified the authenticity of this hadith, as Imam Shu'bah said of a similar hadith: "If such a hadith were established for me from the Messenger of Allah (peace be upon him), it would be dearer to me than my parents, my children, and all of mankind." And this hadith is indeed established as sound.
الترجمة الأردية
سیدنا العرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمایک صبح ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور ہمیں ایسا وعظ فرمایا جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں بہہ نکلیں، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے رخصت ہونے والے جیسا وعظ فرمایا ہے، لہٰذا ہمیں کوئی نصیحت کیجئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم پر اللہ کا تقویٰ لازم ہے“، میرا خیال ہے کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ بھی فرمایا کہ”اور (امیر کی بات) سننا اور ماننا، اور میرے بعد لوگ شدید اختلافات دیکھیں گے، تو تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو تھام لینا، اسے ڈاڑھوں سے مضبوطی سے پکڑ لینا، اور نئی باتوں سے بچنا کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔“میں نے اپنے اجتہاد کے مطابق اس حدیث کی تصحیح میں پوری کوشش کی ہے، اور میرا اس بارے میں وہی حال ہے جو امام شعبہ کا اس حدیث کے بارے میں تھا جسے انہوں نے بصرہ، کوفہ، مدینہ اور مکہ میں تلاش کیا اور پھر فرمایا: اگر میرے لیے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے ایسی حدیث ثابت ہو جائے تو یہ مجھے میرے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔ اور یقیناً یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے، والحمد للہ۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب العلم/حدیث: 337]
