العربية (الأصل)
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب قالا: حدثنا مسدَّد، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حُمَيد، عن أنس قال: دخلتُ على عُبيد الله بن زياد وهم يتراجعون في ذِكْر الحوض، قال: فقال: جاءكم أنسٌ، قال: يا أنسُ، ما تقولُ في الحوض؟ قال: قلت: ما حَسِبتُ أني أعيشُ حتى أَرى مِثلَكم يَمتَرُونَ في الحوض، لقد تركتُ بعدي عجائزَ ما تُصلي واحدةٌ منهن صلاةً إلّا سألت ربَّها أن يُورِدَها حوضَ محمد ﷺ(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله عن حُميد شاهد صحيح على شرطهما:
الترجمة الإنجليزية
Anas narrated: I went to Ubaydullah ibn Ziyad while they were discussing the Hawd (Pool). He said: "Anas has come!" Then he asked: "O Anas, what do you say about the Pool?" I said: "I never thought I would live long enough to see the likes of you doubting the Pool! I left behind old women — not one of them prays a prayer without asking her Lord to bring her to the Pool of Muhammad (peace be upon him)." This hadith is authentic upon the conditions of the two Shaykhs, but they did not include it.
الترجمة الأردية
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس گیا جبکہ وہ (اپنے ساتھیوں کے ساتھ) حوضِ کوثر کے تذکرے پر تکرار کر رہے تھے، اس نے کہا: تمہارے پاس انس (رضی اللہ عنہ) آ گئے ہیں، پھر پوچھا: اے انس! آپ حوض کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: میں نے یہ گمان بھی نہیں کیا تھا کہ میں اتنی دیر زندہ رہوں گا کہ تم جیسے لوگوں کو حوض کے بارے میں شک و تکرار کرتے دیکھوں گا، میں نے اپنے پیچھے ایسی بوڑھی عورتوں کو چھوڑا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو نماز پڑھے اور اپنے رب سے یہ سوال نہ کرے کہ وہ اسے محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے حوض پر پہنچائے۔یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 262]
