العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزيَد البيروتي، أخبرني أبي قال: سمعت الأوزاعيَّ يقول: حدثني أبو كثير الزُّبيدي، عن أبيه؛ وكان يجالس أبا ذرٍّ، قال: فجمع حديثًا، فلقي أبا ذر وهو عند الجَمْرة الوسطى وحولَه الناس، قال: فجلستُ إليه حتى مسَّت رُكبتي ركبته، فنسيت ذلك الحديث، وتفلَّتَ مني كلُّ شيء شيء أردتُ أن أسأله عنه، فرفعتُ رأسي إلى السماء فجعلتُ أتذكَّر، فقلت: يا أبا ذر دُلَّني على عمل إذا عَمِلَ به العبدُ دخل الجنة، قال: قال رسول الله ﷺ:"تؤمن بالله" قلت: يا رسول الله، إنَّ مع الإيمان عملًا؟ قال:"يَرضَخُ مما رَزَقَه الله" قلت: يا رسول الله، فإن كان مُعدِمًا لا شيء له؟ قال:"يقولُ معروفًا بلسانه" قلت: فإن كان عَيبًا لا يُبلِّغ عنه لسانُه؟ قال:"فليُعن مغلوبًا" قلت: فإن كان ضعيفًا لا قوَّةَ له؟ قال:"فليَصنَعْ لأخرَقَ" قلت: فإن كان أخرق؟ فالتفت إليَّ فقال:"ما تريد أن تَدَعَ في صاحبك خيرًا؟" قال:"يَدَعُ الناسَ من أذاهُ" قلت: يا رسول الله، إنَّ هذا ليسيرٌ كلُّه، قال:"والذي نفسي بيده ما منهنَّ خَصْلَةٌ يَعْمَلُ بها عبدٌ يبتغي بها وجه الله، إلَّا أَخَذَت بيده يوم القيامة فلم تُفارقه حتى تُدخِلَه الجنة"(1).هذا حديث صحيح على شرط مسلم، فقد احتج في كتابه بأبي كثير الزُّبيدي واسمه يزيد بن عبد الرحمن بن أُذينة، وهو تابعيٌّ معروف يقال له: أبو كثير الأعمى، وهذا الحديث لم يُخرجاه.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 212 - على شرط مسلم
الترجمة الإنجليزية
Abu Kathir al-Zubaydi narrated from his father — who used to sit with Abu Dharr — that Abu Dharr was near the middle pillar of the Jamarat with people gathered around him. He sat so close that his knee touched Abu Dharr's knee. He said: "O Abu Dharr, guide me to a deed which, if a servant performs it, he will enter Paradise." Abu Dharr said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Believe in Allah." I said: "O Messenger of Allah, with faith there must be deeds." He said: "Give from what Allah has provided you." I said: "O Messenger of Allah, what if a person is poor and has nothing to give?" He said: "Command what is good and forbid what is evil." I said: "What if he cannot?" He said: "Help the one who is in need." I said: "What if he is weak?" He said: "Hold back your harm from people, for it is a form of charity from you upon yourself."
الترجمة الأردية
ابو کثیر زبیدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں (جو کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس جمرہ وسطیٰ کے قریب بیٹھے جہاں لوگ ان کے گرد جمع تھے) وہ کہتے ہیں کہ میں ان کے اتنے قریب بیٹھ گیا کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں سے چھونے لگے، اسی دوران میں وہ حدیث بھول گیا جو میں پوچھنے آیا تھا، میں نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر اسے یاد کرنے کی کوشش کی اور عرض کیا: اے ابوذر! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کر کے بندہ جنت میں داخل ہو جائے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ پر ایمان لاؤ۔“میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ایمان کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے (دوسروں کو) کچھ عطا کرے۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی ایسا محتاج ہو جس کے پاس دینے کو کچھ نہ ہو؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اپنی زبان سے بھلی بات کہے۔“میں نے عرض کیا: اگر وہ (زبان سے معذور ہو اور) بات نہ کر سکتا ہو؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کسی مغلوب و مظلوم کی مدد کرے۔“میں نے عرض کیا: اگر وہ خود اتنا کمزور ہو کہ اس میں مدد کی طاقت نہ ہو؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کسی اناڑی یا کام نہ جاننے والے کا کام کر دے۔“میں نے عرض کیا: اگر وہ خود ہی اناڑی ہو؟ تو آپصلی اللہ علیہ وسلممیری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:”کیا تم اپنے ساتھی میں کوئی بھی خیر باقی نہیں رہنے دینا چاہتے؟“(پھر) فرمایا:”وہ لوگوں کو اپنی اذیت سے محفوظ رکھے۔“میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ سب تو بہت آسان ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، ان میں سے جو بھی خصلت کوئی بندہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اختیار کرے گا، وہ قیامت کے دن اس کا ہاتھ تھام لے گی اور اسے جنت میں داخل کر کے ہی چھوڑے گی۔“یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی کتاب میں ابو کثیر زبیدی (یزید بن عبدالرحمن) سے احتجاج کیا ہے جو کہ ایک معروف تابعی ہیں، لیکن شیخین نے اس حدیث کو روایت نہیں کیا۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 213]
