العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرِير، حدثنا شُعْبة. وأخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأَسَدي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعْبة، عن عمرو بن مُرَّة قال: سمعتُ عبدَ الله بن سَلِمةَ يحدِّث عن صفوان بن عَسَّال المُرَادي، قال: قال يهوديٌّ لصاحبه: اذهب بنا إلى هذا النبيِّ نسأَلْه عن هذه الآية: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾[الإسراء: 101]، فقال: لا تقولوا له: نبيٌّ، فإنه لو سَمِعَك لصارت له أربعةُ أعيُن، قال: فسأَلاه، فقال:"لا تُشرِكوا بالله شيئًا، ولا تَسرِقوا، ولا تَزْنُوا، ولا تقتلوا النفسَ التي حَرَّمَ اللهُ إلّا بالحق، ولا تَسحَرُوا، ولا تأكلوا الرِّبا، ولا تَمشُوا بِبَريءٍ إلى ذي سلطانٍ ليقتلَه، ولا تَقذِفُوا مُحصِنةً، وأنتم يا يهودُ عليكم خاصةً ألَّا تَعْدُوا في السَّبْت"، فقبَّلا يدَه ورجلَه وقالا: نشهدُ أنك نبيٌّ، فقال:"ما مَنَعَكما أن تُسلِما؟" قالا: إنَّ داود ﵇ دعا أن لا يزالَ من ذُرِّيته نبيٌّ، وإنا نخشى أن تقتلَنا يهودُ(1).هذا حديث صحيح لا نعرفُ له علّةً بوجه من الوجوه، ولم يُخرجاه، ولا ذَكَرا لصفوان بن عسال حديثًا واحدًا.
الترجمة الإنجليزية
Safwan ibn 'Assal al-Muradi (may Allah be pleased with him) narrated that a Jew said to his companion: "Let us go to this Prophet and ask him about this verse: 'And We certainly gave Moses nine clear signs' [Al-Isra': 101]." His companion said: "Do not call him a Prophet, for if he hears you, he would be so pleased." So they asked him, and he (peace be upon him) said: "Do not associate anything with Allah, do not steal, do not commit adultery, do not kill the soul which Allah has forbidden except by right, do not practice sorcery, do not consume usury, do not take an innocent person to a ruler to have him killed, do not slander a chaste woman, and as for you, O Jews, in particular, do not transgress on the Sabbath." They kissed his hand and foot and said: "We testify that you are a Prophet." He asked: "What prevents you from accepting Islam?" They said: "David (peace be upon him) prayed that prophets would always come from his descendants, and we fear that the Jews will kill us if we accept Islam."
الترجمة الأردية
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: ہمیں اس نبی کے پاس لے چلو تاکہ ہم ان سے اس آیت کے بارے میں سوال کریں:﴿وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ﴾”اور یقیناً ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں۔“[سورة الإسراء: 101]اس کے ساتھی نے کہا: انہیں ’نبی‘ نہ کہنا، کیونکہ اگر انہوں نے تمہیں سن لیا تو ان کی چار آنکھیں ہو جائیں گی (یعنی وہ خوش ہو جائیں گے)۔ راوی کہتے ہیں: پس ان دونوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمسے سوال کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، جس جان کو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ناحق قتل نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، کسی بے گناہ کو بادشاہ کے پاس (سزا دلوانے کے لیے) نہ لے جاؤ کہ وہ اسے قتل کر دے، کسی پاکدامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ، اور اے یہودیو! تم پر خاص طور پر یہ لازم ہے کہ ہفتے کے دن (شکار کر کے) حد سے تجاوز نہ کرو۔“آپصلی اللہ علیہ وسلمکے یہ ارشادات سن کر ان دونوں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکے دستِ مبارک اور قدموں کو بوسہ دیا اور کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً نبی ہیں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”پھر تمہیں اسلام لانے سے کس چیز نے روکا ہے؟“انہوں نے کہا: حضرت داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ ان کی ذریت میں ہمیشہ کوئی نبی رہے، اور ہمیں ڈر ہے کہ اگر ہم اسلام لے آئے تو یہودی ہمیں قتل کر دیں گے۔یہ ایک ایسی صحیح حدیث ہے جس کی ہمیں کسی بھی پہلو سے کوئی علت معلوم نہیں، لیکن ان دونوں نے اس کی تخریج نہیں کی، اور نہ ہی صفوان بن عسال کی کوئی ایک بھی حدیث ذکر کی ہے۔میں نے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ کو سنا، ان سے محمد بن عبید نے سوال کیا کہ ان دونوں نے صفوان بن عسال کی حدیث کو اصلاً کیوں چھوڑ دیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اس کی طرف جانے والے راستے (سند) کے فساد کی وجہ سے۔امام حاکم فرماتے ہیں: ابوعبداللہ کی مراد اس سے«عاصم عن زر»والی سند ہے، کیونکہ ان دونوں نے عاصم بن بہدلہ کو چھوڑ دیا ہے، لیکن جہاں تک عبداللہ بن سلمہ مرادی (جن کی کنیت ابوالعالیہ ہے) کا تعلق ہے، تو وہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے کبار اصحاب میں سے ہیں، اور انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور جابر بن عبداللہ وغیرہم سے روایات لی ہیں، اور ان سے ابوالزبیر مکی اور تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 20]
