العربية (الأصل)
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا القاسم بن زكريا المُطرّز المقرئ، حدثنا محمد بن يحيى القُطعي(2)، حدثنا عمر بن علي المُقدَّمي، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"إذا كان أجلُ أحدِكم بأرضٍ، أُتيَتْ له(3)إليها حاجةٌ، فإذا بَلَغَ أقصى أَثَرِه فتَوفَّاه فتقول الأرضُ يومَ القيامة: يا ربِّ، هذا ما استَودَعتَني"(4). قد احتجَّ الشيخان برُواة هذا الحديث عن آخرهم، وعمرُ بن علي المقدَّمي متفَقٌ على إخراجه في"الصحيحين"، وقد تابعه محمدُ بن خالد الوهبي على سنده عن إسماعيل:[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 122 - على شرطهما
الترجمة الإنجليزية
Jabir ibn 'Abdullah (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever meets Allah not associating anything with Him enters Paradise, and whoever meets Allah associating anything with Him enters the Fire."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت کسی خاص سرزمین پر آ جائے، تو اس کے لیے وہاں کوئی ضرورت پیدا کر دی جاتی ہے، پھر جب وہ وہاں اپنے آخری نشانِ قدم تک پہنچ جاتا ہے تو اللہ اسے وفات دے دیتا ہے، پھر قیامت کے دن وہ زمین کہتی ہے: اے میرے رب! یہ وہ امانت ہے جو تو نے میرے سپرد کی تھی۔“شیخین نے اس حدیث کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے، اور عمر بن علی مقدمی کی روایات کی تخریج پر”صحیحین“میں اتفاق ہے، اور محمد بن خالد وہبی نے بھی اسماعیل سے اپنی سند میں ان کی متابعت کی ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 123]
