الترجمة الإنجليزية
Yazid ibn Suhayb al-Faqir said: I had been influenced by the beliefs of the Khawarij — that those who commit major sins will remain in Hellfire forever. We set out in a large group intending to perform Hajj and then spread our beliefs. When we reached Madinah, we found Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with him) sitting by a pillar, narrating hadiths to the people. When he mentioned the people of the Fire, I said: "O companion of the Messenger of Allah, what are you narrating? Does Allah not say: 'Our Lord, indeed whoever You admit to the Fire — You have disgraced him' [Al Imran: 192] and 'Every time they want to get out of it, they will be returned to it' [as-Sajdah: 20]?" Jabir said: "Have you read the Quran?" I said: "Yes." He said: "Have you heard of the station of Muhammad (peace be upon him) that Allah will grant him on the Day of Judgment?" I said: "Yes." He said: "That is the praiseworthy station of Muhammad (peace be upon him), by which Allah will bring out of the Fire whomever He wills." He then described the crossing of the bridge and said that some people will be brought out of the Fire and will enter a river of Paradise, washing therein until they come out white as paper. When we heard this, we said to each other: "Woe to you! Do you think this old man would lie about the Messenger of Allah?" We all abandoned our beliefs except one person — or as Abu Nu'aym narrated.
الترجمة الأردية
یزید بن صہیب فقیر سے روایت ہے کہتے ہیں کہمیرے دل میں خارجیوں کی ایک بات کھب گئی تھی (اور وہ یہ کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جو جہنم میں جائے گا وہ پھر وہاں سے نہ نکلے گا)، تو ہم ایک بڑی جماعت کے ساتھ اس ارادے سے نکلے کہ حج کریں۔ پھر خارجیوں کا مذہب پھیلائیں گے۔ جب ہم مدینے میں پہنچے تو دیکھا کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ایک ستون کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی حدیثیں سنا رہے ہیں۔ یکایک انہوں نے دوزخیوں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ اے صحابی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم! تم کیا حدیث بیان کرتے ہو؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ”اے ہمارے پالنے والے! تو جسے جہنم میں ڈالے، یقیناً تو نے اسے رسوا کیا“(آل عمران: 192) نیز”جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے تو اسی میں لوٹا دئیے جائیں گے“(السجدہ: 20)۔ اور اب یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا کہ تو نے قرآن پڑھا ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ انہوں نے پھر کہا کہ کیا تو نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا مقام سنا ہے (یعنی وہ مقام جو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز عنایت فرمائے گا)؟ میں نے کہا جی ہاں! میں نے سنا ہے۔ انہوں نے کہا یہ ہی محمدصلی اللہ علیہ وسلمکے لئے ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جنہیں چاہے گا، جہنم سے نکالے گا۔ پھر انہوں نے پل صراط کا حال اور اس پل پر سے لوگوں کے گزرنے کا حال بیان کیا اور اور مجھے ڈر ہے کہ شاید مجھے یاد نہ رہا ہو مگر انہوں نے یہ کہا کہ کچھ لوگ دوزخ میں جانے کے بعد اس میں سے نکالے جائیں گے اور وہ اس طرح نکلیں گے جیسے آبنوس کی لکڑیاں (سیاہ جل بھن کر)۔ پھر جنت کی ایک نہر میں جائیں گے اور وہاں غسل کریں گے اور کاغذ کی طرح سفید ہو کر نکلیں گے۔ یہ سن کر ہم لوٹے اور ہم نے کہا کہ تمہاری خرابی ہو! کیا یہ بوڑھا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر جھوٹ باندھتا ہے؟ (یعنی وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتا، پھر تمہارا مذہب غلط نکلا)۔ اور ہم سب اپنے مذہب سے پھر گئے مگر ایک شخص نہ پھرا۔ یا جیسا ابونعیم فضل بن دکین (امام مسلم کے استاذ کے استاذ) نے بیان کیا۔[مختصر صحيح مسلم/حدیث: 90]
