الترجمة الإنجليزية
Ahnaf bin Qays said: I was sitting with some people of the Quraysh when Abu Dharr (may Allah be pleased with him) came and began to say: Give the good news to those who hoard treasures of such brands as will be placed on their backs and come out from their sides, and placed on the napes of their necks and come out from their foreheads. Then Abu Dharr (may Allah be pleased with him) sat down to one side. I asked the people: Who is this? The people said: He is Abu Dharr (may Allah be pleased with him). I stood up towards him and said: What was that which I just heard you saying? He said: I was saying only what I heard from their Prophet (peace be upon him). Then I said: What do you say about this stipend (that is, what the rulers give to the Muslims from the spoils of war)? He said: Keep taking it, for it fulfills needs. Then, when it becomes the price of your religion, abandon it (that is, if the givers seek from you compromise in the religion, do not take it). [Mukhtasar Sahih Muslim/Hadith: 508]
الترجمة الأردية
احنف بن قیس کہتے ہیں کہمیں قریش کے چند لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ بشارت دو خزانہ جمع کرنے والوں کو ایسے داغوں کی جو ان کی پیٹھوں پر لگائے جائیں گے اور ان کی کروٹوں سے نکل جائینگے۔ اور ان کی گدیوں میں لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکل آئیں گے۔ پھر ابوذر رضی اللہ عنہ ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور کہا کہ یہ کیا تھا جو میں نے ابھی ابھی سنا کہ آپ کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا تھا جو میں نے ان کے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا۔ پھر میں نے کہا کہ آپ اس عطا کے بارے میں (یعنی جو مال غنیمت سے امراء مسلمانوں کو دیا کرتے ہیں) کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ تم اس کو لیتے رہو کہ اس میں ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ پھر جب یہ تمہارے دین کی قیمت ہو جائے تب چھوڑ دینا (یعنی دینے والے تم سے مداہنت فی الدین چاہیں تو نہ لینا)۔[مختصر صحيح مسلم/حدیث: 508]
