الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said: "Allah has cursed women who tattoo and those who get tattoos, women who pluck facial hair and those who have it plucked, and women who file their teeth for beauty, altering Allah's creation." A woman named Umm Ya'qub, who used to recite the Quran, came to him and objected. Ibn Mas'ud said: "Why should I not curse those whom the Prophet cursed? This is in Allah's Book." She said: "I read the entire Quran and did not find it." He said: "If you had read it properly, you would have found it — 'Whatever the Messenger gives you, take it, and whatever he forbids you, abstain from it' (al-Hashr: 7)." She then said some of these practices might apply to his own wife. He said: "Go see for yourself." She checked and found nothing. Ibn Mas'ud said: "If she did any of that, I would not live with her."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہاللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمنے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ ’ جو کچھ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو ‘ (الحشر: 7) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرتی تو ہم اس سے صحبت نہ کرتے۔[مختصر صحيح مسلم/حدیث: 1386]
