العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ فُرَاتٍ، - يَعْنِي الْقَزَّازَ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكُنَّا إِذَا سَلَّمْنَا قُلْنَا بِأَيْدِينَا السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ فَنَظَرَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَا شَأْنُكُمْ تُشِيرُونَ بِأَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْتَفِتْ إِلَى صَاحِبِهِ وَلاَ يُومِئْ بِيَدِهِ " .
الترجمة الإنجليزية
Al-Qasim ibn Zakariyya narrated to us, he said: Ubaidullah ibn Musa narrated to us, from Isra'il, from Furat, meaning al-Qazzaz, from Ubaidullah, from Hadrat Jabir ibn Samurah (may Allah be well pleased with him), who said: I prayed with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). We used to gesture with our hands while pronouncing the salutation, saying 'Peace be upon you, peace be upon you.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) looked at us and said: 'What is the matter that you gesture with your hands as though they were the tails of headstrong horses? When any one of you pronounces the salutation, he should turn his face toward his companion and not gesture with his hand.'
الترجمة الأردية
ہم سے قاسم بن زکریا نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، اسرائیل سے، انہوں نے فرات یعنی قزاز سے، انہوں نے عبید اللہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، ہم لوگ جب سلام پھیرتے تو ہاتھوں کے اشارے سے السلام علیکم، السلام علیکم کہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری طرف نظر فرمائی اور فرمایا: ''کیا وجہ ہے کہ تم ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے وہ سرکش گھوڑوں کی دُمیں ہوں؟ تم میں سے جب کوئی سلام پھیرے تو اپنے ساتھی کی طرف رخ کرے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔''
