العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا بِهِ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ . وَعَائِشَةُ تُصَلِّي فَلَمَّا قَضَتْ صَلاَتَهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ أَلاَ تَسْمَعُ إِلَى هَذَا وَمَقَالَتِهِ آنِفًا إِنَّمَا كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لأَحْصَاهُ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat It was reported that Hadrat Abu Huraira used to say:Listen to me, inmate of the apartment; listen to me, inmate of the apartment, while Hadrat 'A'isha (Allah be pleased with her) had been busy in observing prayer. As she finished prayer, she said to" Urwa: Did you hear his words? And this is how Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) used to utter (so distinctly) that if one intended to count (the words uttered) he would be able to do so
الترجمة الأردية
ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ احادیث بیان کررہے تھے اور آواز لگارہے تھے : اے حجرے کے مالک!سنیے ، اے حجرے کے مالک!سنیے ، اس وقت حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( اندر ) نماز پڑھ رہی تھیں ۔ انھوں نے جب نماز مکمل کی تو عروہ سے کہا : تم نے ابھی اسے اور اس کی کہی ہوئی بات نہیں سنی؟نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ( ایک وقت میں ) ایک بات ( حدیث ) ارشاد فرماتے تھے ، اگر کوئی گننے والا اسے گنتا تو گن سکتا تھا ۔
