العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي، مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، الْخُدْرِيِّ أَنَّ رِجَالاً، مِنَ الْمُنَافِقِينَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانُوا إِذَا خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْغَزْوِ تَخَلَّفُوا عَنْهُ وَفَرِحُوا بِمَقْعَدِهِمْ خِلاَفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم اعْتَذَرُوا إِلَيْهِ وَحَلَفُوا وَأَحَبُّوا أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَنَزَلَتْ { لاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلاَ تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ}
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Sa'id Khudri reported that during the lifetime of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) the hypocrites behaved in this way that when Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) set out for a battle, they kept themselves behind, and they became happy that they had managed to sit in the house contrary to (the act of) Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him), and when Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) came back, they put forward excuses and took oath and wished that people should laud them for the deeds which they had not done. It was on this occasion that this verse was revealed:" Think not that those who exult in what they have done, and love to be praised for what they have not done-think not them to be safe from the chastisement; and for them is a painful chastisement" (iii)
الترجمة الأردية
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کچھ منافقین ایسے تھے کہ جب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کسی جنگ کے لئے تشریف لے جاتے تو وہ پیچھے رہ جاتے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت میں اپنے پیچھے رہ جانے پر خوش ہوتے ، اور جب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم واپس آتے تو آپ کے سامنے عذر بیان کرتے اور قسمیں کھاتے اور چاہتے کہ لوگ ان کاموں پر ان کی تعریف کریں جو انہوں نے نہیں کیے تھے ، اس پر یہ ( آیت نازل ) ہوئی : " ان لوگوں کے متعلق گمان نہ کرو جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور یہ پسند کرتے ہیں کہ اس کام پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیا ، ان کے متعلق یہ گمان بھی نہ کرو کہ وہ عذاب سے بچنے والے مقام پر ہوں گے ۔
