العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، بِهَذَا الإِسْنَادِ قَالَ أَصَابَ رَجُلٌ مِنِ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ .
الترجمة الإنجليزية
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman (upon him be peace) Taimi with the same chain of transmitters that a person had taken liberty with a woman less than fomication. He came to 'Umar b. Khattab and he took it to be a serious offence. Then he came to Hadrat Abu Bakr and he also took it to be a serious offence. Then he came the Allahs Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and he made a mention of this to him. The rest of the hadith is the same
الترجمة الأردية
شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو اپنے ماموں اسود سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ابو احوص کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے یا عمومی طور پر ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " بلکہ تم سب کے لیے عام ہے ۔
