العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارِ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، الضَّبِّيُّ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حَاتِمٍ وَابْنِ دِينَارٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ، عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ مُوسَى يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ فَقَالَ لَهُ آدَمُ أَنْتَ مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلاَمِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَىَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً " . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " . وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَابْنِ عَبْدَةَ قَالَ أَحَدُهُمَا خَطَّ . وَقَالَ الآخَرُ كَتَبَ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Huraira reported the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (way (blessings and peace of Allah be upon him)) as saying:There was argument between Adam (upon him be peace) and Moses (upon him be peace). Moses said to Adam: You are our father. You did us harm and caused us to get out of Paradise. Adam said to him: You are Moses. Allah selected you (for direct conversation with you) and wrote with His own Hand the Book (Torah) for you. Despite this you blame me for an act which Allah had ordained for me forty years before He created me. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated:. This is how Adam came the better of Moses and Adam came the better of Moses
الترجمة الأردية
محمد بن حاتم ، ابراہیم بن دینار ، ابن ابی عمر مکی اور احمد بن عبدہ ضبی نے ہمیں ابن عیینہ سے حدیث بیان کی ، الفاظ ابن حاتم اور ابن دینار کے ہیں ۔ ۔ ان دونوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے طاوس سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "" حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے ( ایک دوسرے کو ) اپنی اپنی دلیلیں دیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آدم! آپ ہمارے والد ہیں ، آپ نے ہمیں ناکام کر دیا اور ہمیں جنت سے باہر نکال لائے ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم موسیٰ ہو ، تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کے لیے منتخب فرمایا اور اپنے ہاتھ سے تمہارے لیے ( اپنے احکام کو ) لکھا ، کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں مجھے پیدا کرنے سے بھی چالیس سال پہلے مقدر کر دیا تھا؟ "" نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو حضرت آدم علیہ السلام ( دلیل میں ) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ، حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔ "" ابن ابی عمر اور ابن عبدہ کی حدیث میں ہے کہ ایک نے کہا : "" لکھا "" اور دوسرے نے کہا : "" تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی ۔
