العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، قَالَ سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ كُنْتُ أَضَعُ لِعُثْمَانَ طَهُورَهُ فَمَا أَتَى عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلاَّ وَهُوَ يُفِيضُ عَلَيْهِ نُطْفَةً . وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ انْصِرَافِنَا مِنْ صَلاَتِنَا هَذِهِ - قَالَ مِسْعَرٌ أُرَاهَا الْعَصْرَ - فَقَالَ " مَا أَدْرِي أُحَدِّثُكُمْ بِشَىْءٍ أَوْ أَسْكُتُ " . فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ خَيْرًا فَحَدِّثْنَا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَطَهَّرُ فَيُتِمُّ الطُّهُورَ الَّذِي كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَيُصَلِّي هَذِهِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ إِلاَّ كَانَتْ كَفَّارَاتٍ لِمَا بَيْنَهَا " .
الترجمة الإنجليزية
Humran bin Aban reported: I used to fetch water for Hadrat ' Uthman (may Allah be well pleased with him) for his purification. Never was there a day that he did not take a bath with a small quantity of water. And Hadrat ' Uthman (may Allah be well pleased with him) said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) at the time of our returning from our prayer told us (certain things pertaining to purification). Mis'ar said: I find that it was the afternoon prayer. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'I do not know whether I should tell you a thing or keep quiet.' We submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), tell us if it is good; and if it is otherwise, Allah and His Messenger know better. Upon this he (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'A Muslim who purifies (himself) and completes purification as enjoined upon him by Allah and then offers the prayers, that will be expiation (of his sins he committed) between these (prayers).'
الترجمة الأردية
مسعر نے ابو صخرہ جامع بن شداد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حمران بن ابان سے سنا، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا (پانی) اپنے اوپر نہ بہا لیتے (ہلکا سا غسل نہ کر لیتے)۔ (ایک دن) حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس نماز سے (مسعر کا قول ہے: میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟'' ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)! اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اس کو مکمل طریقے سے کرتا ہے پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے۔''
