العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَأَتْبَعَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ - قَالَ - فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَاخَتْ فَرَسُهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلاَ أَضُرُّكَ . قَالَ فَدَعَا اللَّهَ - قَالَ - فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Al-Bara' reported that when Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) went forth from Mecca to Medina, Suraqa b. Malik b. Ju'shum pursued him. Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) invoked curse upon him, and his horse sank (in the desert). He (Suraqa) said: (the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)), invoke blessings for me and I will do no harm to you. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) then supplicated Allah. (At that time) he (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) felt thirsty, and they happened to pass by a shepherd. Hadrat Abu Bakr Siddiq said: I took hold of a bowl and milked some milk into it for Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) and gave it to him. He drank it and I was pleased
الترجمة الأردية
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو اسحاق ہمدانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے ( مشرکوں کی طرف سے ) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا پیچھا کیا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لئے بددعا کی تو اس کا گھوڑا ( زمین میں ) دھنس گیا ( یعنی زمین نے اس کو پکڑ لیا ) ۔ وہ بولا کہ آپ میرے لئے دعا کیجئے میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے دعا کی ( تو اس کو نجات ملی ) پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے ۔ سیدنا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیا ، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔
