حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، بْنُ يَزِيدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ يَسْرِقْنَ وَلاَ يَزْنِينَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ " . وَلاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ . غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلاَمِ - قَالَتْ عَائِشَةُ - وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلاَّ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ " . كَلاَمًا .
الترجمة الإنجليزية
It has been narrated on the authority of Hadrat 'A'isha, the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). She said:When the believing women migrated (to Medina) and came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), they would be tested in accordance with the following words of Allah. the Almighty and Exalted:" O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), when believing women come to thee to take the oath of fealty to thee that they will not associate in worship anything with God, that they will not steal. that, they will not commit adultery..." to the end of the verse (lx. 62). Whoso from the believing women accepted these conditions and agreed to abide by them were considered to have offered themselves for swearing fealty. When they had (formally) declared their resolve to do so, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may peace he upon him) would say to them: You may go. I have confirmed your fealty. By God, the hand of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) never touched the hand of a woman. He would take the oath of fealty from them by oral declaration. By God, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) never took any vow from women except that which God had ordered him to take, and his palm never touched the palm of a woman. When he had taken their vow, he would tell them that he had taken the oath from them orally
الترجمة الأردية
یونس بن یزید نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن حضرت زبیر نے بتایا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : مسلمان عورتیں جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتیں تو اللہ کے اس فرمان کے مطابق ان کا امتحان لیا جاتا : "" اے نبی! جب آپ کے پاس مسلمان عورتیں آئیں ، آپ سے اس پر بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گی ، نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی "" آیت کے آخر تک ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مومن عورتوں میں سے جو عورت ان باتوں کا اقرار کر لیتی ، وہ امتحان کے ذریعے سے اقرار کرتی ( مثلا : ان سے سوال کیا جاتا : کیا تم شرک نہیں کرو گی؟ تو اگر وہ کہتیں : نہیں کریں گی ، تو یہی ان کا اقرار ہوتا ، آیت کے آخری حصے تک اسی طرح امتحان اور اقرار ہوتا ۔ ) اور جب وہ ان باتوں کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرماتے : "" جاؤ ، میں تم سے بیعت لے چکا ہوں ۔ "" اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا بلکہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ بات کر کے بیعت کرتے تھے ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے علاوہ کسی چیز کا عہد نہیں لیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی کبھی کسی عورت کی ہتھیلی سے مَس نہیں ہوئی ، آپ جب ان سے بیعت لیتے تو زبانی فرما دیتے : "" میں نے تم سے بیعت لے لی ۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (5)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَمْتَحِنُهُن…
سنن ابن ماجه
كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ } إِلَى آخِرِ الآيَةِ قَالَتْ عَائِشَةُ ف…
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، بْنُ يَزِيدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَتِ الْمُؤْمِنَاتُ إِذَا هَاجَرْنَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُمْتَحَنَّ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لاَ يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ يَسْرِقْنَ وَلاَ يَزْنِينَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ . قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ فَقَدْ أَقَرَّ بِالْمِحْنَةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَقْرَرْنَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِهِنَّ قَالَ لَهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " انْطَلِقْنَ فَقَدْ بَايَعْتُكُنَّ " . وَلاَ وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ . غَيْرَ أَنَّهُ يُبَايِعُهُنَّ بِالْكَلاَمِ - قَالَتْ عَائِشَةُ - وَاللَّهِ مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلاَّ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَمَا مَسَّتْ كَفُّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ وَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ " قَدْ بَايَعْتُكُنَّ " . كَلاَمًا .
It has been narrated on the authority of Hadrat 'A'isha, the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). She said:When the believing women migrated (to Medina) and came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), they would be tested in accordance with the following words of Allah. the Almighty and Exalted:" O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), when believing women come to thee to take the oath of fealty to thee that they will not associate in worship anything with God, that they will not steal. that, they will not commit adultery..." to the end of the verse (lx. 62). Whoso from the believing women accepted these conditions and agreed to abide by them were considered to have offered themselves for swearing fealty. When they had (formally) declared their resolve to do so, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) (may peace he upon him) would say to them: You may go. I have confirmed your fealty. By God, the hand of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) never touched the hand of a woman. He would take the oath of fealty from them by oral declaration. By God, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) never took any vow from women except that which God had ordered him to take, and his palm never touched the palm of a woman. When he had taken their vow, he would tell them that he had taken the oath from them orally
یونس بن یزید نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن حضرت زبیر نے بتایا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : مسلمان عورتیں جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتیں تو اللہ کے اس فرمان کے مطابق ان کا امتحان لیا جاتا : "" اے نبی! جب آپ کے پاس مسلمان عورتیں آئیں ، آپ سے اس پر بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہیں بنائیں گی ، نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی "" آیت کے آخر تک ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مومن عورتوں میں سے جو عورت ان باتوں کا اقرار کر لیتی ، وہ امتحان کے ذریعے سے اقرار کرتی ( مثلا : ان سے سوال کیا جاتا : کیا تم شرک نہیں کرو گی؟ تو اگر وہ کہتیں : نہیں کریں گی ، تو یہی ان کا اقرار ہوتا ، آیت کے آخری حصے تک اسی طرح امتحان اور اقرار ہوتا ۔ ) اور جب وہ ان باتوں کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرماتے : "" جاؤ ، میں تم سے بیعت لے چکا ہوں ۔ "" اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں لگا بلکہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ بات کر کے بیعت کرتے تھے ۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے علاوہ کسی چیز کا عہد نہیں لیا جن کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی کبھی کسی عورت کی ہتھیلی سے مَس نہیں ہوئی ، آپ جب ان سے بیعت لیتے تو زبانی فرما دیتے : "" میں نے تم سے بیعت لے لی ۔