العربية (الأصل)
قَالَ مُسْلِمٌ قَرَأْتُ عَلَى عِيسَى بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ وَقُلْتُ لَهُ أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ نَعَمْ . قُلْتُ لِعِيسَى بْنِ حَمَّادٍ أَخْبَرَكُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَى رَبَّنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ " . قُلْنَا لاَ . وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّى انْقَضَى آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ . وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلاَ قَدَمٍ قَدَّمُوهُ " فَيُقَالُ لَهُمْ لَكُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ . وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ " فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ " وَمَا بَعْدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated on the authority of Hadrat Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be well pleased with him): We submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Shall we see our Lord? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Do you feel any trouble in seeing the sun on a cloudless day?' We submitted: No. And the remaining part of the hadith has been narrated to the end like the hadith transmitted by Hafs bin Maisara, with the addition of these words: 'Without any deed that they did or any good that they had sent before. It will be said to them: For you is whatever you see (in it) and with it the like of it.'
الترجمة الأردية
امام مسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا: میں نے شفاعت کے بارے میں یہ حدیث عیسیٰ بن حماد زغبہ مصری کے سامنے پڑھی اور ان سے کہا: (کیا) یہ حدیث میں آپ کے حوالے سے بیان کروں کہ آپ نے اسے لیث بن سعد سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! (امام مسلم نے کہا:) میں نے عیسیٰ بن حماد سے کہا: آپ کو لیث بن سعد نے خالد بن یزید سے خبر دی، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انہوں نے کہا کہ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''کیا تمہیں بے ابر دن سورج دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟'' ہم نے عرض کیا: نہیں۔ اور باقی حدیث حفص بن میسرہ کی روایت کی طرح آخر تک بیان کی، اس اضافے کے ساتھ: ''بغیر کسی عمل اور نیکی کے جو انہوں نے آگے بھیجی ہو۔ ان سے کہا جائے گا: جو کچھ تو اس میں دیکھ رہا ہے وہ تیرا ہے اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور۔''
