العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرٍو، أَنَّ مُجَاهِدًا، قَالَ لِطَاوُسٍ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَاسْمَعْ مِنْهُ الْحَدِيثَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَانْتَهَرَهُ قَالَ إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْهُ مَا فَعَلْتُهُ وَلَكِنْ حَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُمْ - يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لأَنْ يَمْنَحَ الرَّجُلُ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا خَرْجًا مَعْلُومًا " .
الترجمة الإنجليزية
Mujahid said to Tiwus:Come along with me to Ibn Rafi b. Khadij in order to listen from him the hadith transmitted on the authority of his father (pertaining to the renting of land) from Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him). He (Tawus) scolded him and said: By Allah, it I were to know that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) had forbidden it, I would have never done it. But it has been narrated to me by one who has better knowledge of it amongst them (and he meant Hadrat Ibn 'Abbas) that Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) stated: It is better if a person lends, his land to his brother (for cultivation) than that he gets recognised rent on it
الترجمة الأردية
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی کہ مجاہد نے طاوس سے کہا : ہمارے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے کے پاس چلو اور ان سے ان کے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کردہ حدیث سنو ، کہا : انہوں ( طاوس ) نے انہیں ڈانٹا اور کہا : اللہ کی قسم : اگر مجھے علم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں یہ کام ( کبھی ) نہ کرتا لیکن مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو اسے ان سب سے زیادہ جاننے والا ہے ، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو عاریتا دے ، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( اس سے اللہ کی رضا بھی حاصل ہو گی اور جھگڑوں سے محفوظ بھی رہے گا)
