العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي، خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ مَا أُبَالِي خَيَّرْتُ امْرَأَتِي وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَفَكَانَ طَلاَقًا
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Masruq reported that I do not mind if I give option to my wife (to get divorce) once, hundred times, or thousand times after (knowing it) that she has chosen me (and would never seek divorce). I asked Hadrat 'A'isha (Allah be pleased with her) (about it) and she said: Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) gave us the option, but did it imply divorce? (It was in fact not a divorce; it is effective when women actually avail themselves of it)
الترجمة الأردية
علی بن مسہر نے اسی سند کے ساتھ مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب میری اہلیہ نے مجھے پسند کر لیا تو اس کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسے ایک بار ، سو بار یا ایک ہزار بااختیار دوں ۔ بلاشبہ میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا وہ طلاق تھی! ( نہیں تھی)
