العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ لاَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ وَلاَ غَيْرُ حَاجٍّ إِلاَّ حَلَّ . قُلْتُ لِعَطَاءٍ مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ مِنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى { ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ . فَقَالَ كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ هُوَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ . وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ata' (may Allah be well pleased with him) said:Hadrat Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) used to say that a pilgrim or non-pilgrim (one performing 'Umar) who circumambulates the House is free from the responsibility of Ihram. I (Ibn Juraij, one of the narrators) said to 'Ata': On what authority does he (Hadrat Ibn Abbas) say this? He said: On the authority uf Allah's words:" Then their place of sacrifice is the Ancient House" (al-Qur'an, xxii. 33). I said: It concerns the time after staying at 'Arafat, whereupon he said: Hadrat Ibn 'Abbas (Allah be pleased with them) had stated (that the place of sacrifice is the Ancient House) ; it way be after staying at 'Arafat or before (staying there). And he (Hadrat Ibn Abbas) made this deduction I from the command of Allah's Messenger (blessings and peace of Allah be upon him) when he had ordered to put off Ihram on the occasion of the Farewell Pilgrimage
الترجمة الأردية
ابن جریج نے کہا : مجھے عطا ء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر مایا کرتے تھے : ( احرا م کی حا لت میں ) جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حاجی ہو یا غیر حاجی ( صرف عمرہ کرنے والا ) وہ طواف کے بعد احرا م سے آزاد ہو جا ئے گا ابن جریج نے کہا : میں نے عطا ء سے دریافت کیا ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات کہاں سے لیتے ہیں؟ ( ان کے پاس کیا دلیل ہے؟ فرمایا اللہ تعا لیٰ کے اس فر مان سے ( دلیل لیتے ہوئے ) " پھر ان کے حلال ( ذبح ) ہو نے کی جگہ " البیت العتیق " ( بیت اللہ ) کے پاس ہے ۔ " ابن جریج نے کہا : میں نے ( عطاء سے ) کہا : اس آیت کا تعلق تو وقوف عرفات کے بعد سے ہے انھوں نے جواب دیا : ( مگر ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے : اس آیت کا تعلق وقوف عرفات سے قبل اور بعد دونوں سے ہے ۔ اور انھوں نے یہ بات نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم سے اخذ کی جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر ( طواف وسعی کے بعد ) احرا م کھول دینے کے بارے میں دیا تھا ۔
