العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ . فَقَالَ " نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Umm Salama said:I asked the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) whether there is a reward for me if I spend on Abu Salama's sons, and I am not going to abandon them in this state (of helplessness) for they are my sons. He (the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)) said: Yes. For you is the reward for what you spend on them
الترجمة الأردية
ابواسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے و الد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !کیا ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد پر خرچ کرنے میں میرے لئے اجر ہے؟میں ان پر خرچ کر تی ہوں ، میں انھیں ایسے ، ایسے چھوڑنے والی نہیں ہوں ، وہ میرے بچے ہیں ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " ہاں ، تمھارے لئے ان میں ، جو تم ان پر خرچ کروگی ، اجر ہے ۔
