العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَاتَلُونَا قِتَالاً شَدِيدًا فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لاَقْتَطَعْنَاهُمْ . فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَلِكَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - وَقَالُوا إِنَّهُ سَتَأْتِيهِمْ صَلاَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنَ الأَوْلاَدِ فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ - قَالَ - صَفَّنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِكُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ - قَالَ - فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الأَوَّلُ فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الأَوَّلُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي فَقَامُوا مَقَامَ الأَوَّلِ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَبَّرْنَا وَرَكَعَ فَرَكَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الأَوَّلُ وَقَامَ الثَّانِي فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ كَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُكُمْ هَؤُلاَءِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jabir reported that we fought In the company of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with the tribe of Juhaina. They fought with us terribly. When we had finished the noon prayer, the polytheists said: Had we attacked them at once. we would have killed them. Gabriel informed the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) about It (about their evil design). The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) made a mention of it to us, adding that they (the polytheists) had also said: Shortly there would be time for the 'Asr prayer. which is dearer o them (the Muslims) than even their children. So when the time of the 'Asr prayer came. we formed ourselves into two rows, while the polytheists were between us and the Qibla. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Allah is Most Great, and we also said so. He bowed and we also bowed. He went down in prostration and the first row prostrated along with him. When they stood up, the second row went down in prostration. Then the first row went into the rear, and the second row came in the front and occupied the place of the first row. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) then said: Allah is Most Great, and we also said so. He then bowed, and we also bowed. He then went down in prostration and along with him the row also (went down in prostration), and the second row remained standing. And when the second row had also prostrated and all of them sat down then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) pronounced salutation to them. Abu Hadrat Zubair said: Hadrat Jabir made a mention specially of this thing: just as your chiefs observe prayer
الترجمة الأردية
ابو حضرت زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا؛ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں جہینہ قبیلے کے لوگوں سے جنگ لڑی ، انھوں نے ہمارے ساتھ بڑی شدیدجنگ کی جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکوں نے کہا : اگر ہم ان پر یکبارگی حملہ کریں تو ان کو کاٹ کررکھ دیں ۔ جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات سے آگاہ کردیا اوررسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے کہا ہے کہ ابھی ان کی ایک ایسی نماز کا وقت آنےوالاہے جو ان کو ان کی اولاد سے بھی زیادہ پیاری ہے ۔ جب عصرکا وقت آیا ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنائیں جبکہ مشرک ہمارے اور ہمارے قبیلے کے درمیان تھے ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر تحریمہ کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا ، پھرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پہلی صف نے بھی سجدہ کیا ۔ جب یہ حضرات کھڑے ہوگئے تو دوسر ی صف والوں نے سجدے کیے ، پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی اور دوسری آگے بڑھ گئی اور پہلی صف کی جگہ کھڑی ہوگئی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیرکہی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا اور ہم نے بھی رکوع کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ( موجودہ ) پہلی صف نے سجدہ کیا اور دوسری کھڑی رہی ۔ پھر جب دوسری صف نے سجدے کرلیے اور اس کے بعد سب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا ۔ ابو حضرت زبیر نے کہا : پھر حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خصوصی طور پر فرمایا : جس طرح تمہارے یہ امیر نماز پڑھتے ہیں ۔
