العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاَةِ الْغَدَاةِ أَأُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ - قَالَ - قُلْتُ إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ . قَالَ إِنَّكَ لَضَخْمٌ أَلاَ تَدَعُنِي أَسْتَقْرِئُ لَكَ الْحَدِيثَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ كَأَنَّ الأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ . قَالَ خَلَفٌ أَرَأَيْتَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ وَلَمْ يَذْكُرْ صَلاَةِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas b. Sirin reported that I asked Hadrat Ibn 'Umar to tell me about the practice of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) in regard to two rak'ahs before the dawn prayer: Should I make lengthy recitation in them? He said: The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to observe, the night prayer in pairs and then made the number odd by observing one rak'ah. I said: I am not asking you about it. He said: You are a bulky man, will you not show me the patience to narrate to you the hadith completely? The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to observe the night prayer in pairs and then made the number odd by observing one rak'ah, and then he observed two rak'ahs before dawn quite close to the call for prayer (Khalaf said: " Did you see [yourself the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) observing] the two rak'ahs before the dawn?" and he made no mention of prayer
الترجمة الأردية
خلف بن ہشام اور ابوکامل نے کہا : ہمیں حماد بن زیدنے انس بن سیرن سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، کیا میں ان میں طویل قراءت کرسکتا ہوں؟انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک رکعت سے اس کو وتر بناتے ، میں نے کہا : میں آپ سے اس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ۔ انھوں نے کہا : تم ایک بوجھل آدمی ہو ( اپنی سوچ کو ترجیح دیتے ہو ) کیا مجھے موقع نہ دو گے کہ میں تمہارے لئے بات کو مکمل کروں؟رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور ایک وتر پڑھتے اور صبح ( کی نماز ) سے پہلے ( مختصر سی ) دو رکعتیں پڑھتے ، گویا کہ اذان ( اقامت ) آ پ کے کانوں میں ( سنائی دے رہی ) ہے ۔ خلف نے اپنی حدیث میں "" صبح سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟کہا اور انھوں نے "" صلاۃ "" کا لفظ بیان نہیں کیا ۔
