العربية (الأصل)
وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «مامن نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ». وَكَانَ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ شَدِيدَةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ من الصديقين والنبيين وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ. فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
الترجمة الإنجليزية
'A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated: I heard the Messenger of Allah (peace be upon him) say, "No prophet falls ill except that he is given the choice between this world and the Hereafter." During the illness in which he passed away, a severe hoarseness overtook him. I heard him say, "With those upon whom You have bestowed favor — the prophets, the truthful, the martyrs, and the righteous." So I knew that he had been given the choice. Agreed upon.
الترجمة الأردية
عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:”جو نبی (مرض الموت میں) بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا و آخرت کے مابین اختیار دیا جاتا ہے۔“اور جس مرض میں آپ کی روح قبض کی گئی، اس مرض میں آپ پر ہچکی کا سخت حملہ ہوا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:”ان لوگوں کے ساتھ جن پر تو نے انعام فرمایا، انبیا ؑ، صدیقین، شہداء اور صالحین (کے ساتھ)۔“میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5960]
