العربية (الأصل)
وَعَن ابْن عمر أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقِيَنَا عَدُوُّنَا فَهَزَمُونَا فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ الْجَبَلَ. فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الْجَبَلِ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة
الترجمة الإنجليزية
Ibn 'Umar (may Allah be pleased with him) narrated: 'Umar sent an army and appointed a man named Sariyah as their commander. While 'Umar was delivering a sermon, he began calling out: "O Sariyah, the mountain! O Sariyah, the mountain!" A messenger later came from the army and said, "O Commander of the Believers, we met the enemy and they were defeating us, when suddenly a voice called out: 'O Sariyah, the mountain!' So we placed our backs to the mountain, and Allah defeated them." Narrated by al-Bayhaqi in Dala'il al-Nubuwwah.
الترجمة الأردية
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر روانہ کیا، اور ساریہ نامی شخص کو اس کا امیر مقرر کیا، اس اثنا میں کہ عمر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ زور سے کہنے لگے: ساریہ! پہاڑ کی طرف، پھر لشکر کی طرف سے ایک قاصد آیا تو اس نے کہا: امیر المومنین! ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو اس نے ہمیں شکست سے دوچار کر دیا تھا مگر اچانک کسی نے زور سے آواز دی: ساریہ! پہاڑ کو نہ چھوڑو۔ ہم نے اپنی پشتیں پہاڑ کی جانب کر لیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔ رواہ البیھقی فی دلائل النبوۃ۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5954]
