العربية (الأصل)
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْد النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ ثُمَّ أَتَاهُ الْآخَرُ فَشَكَا إِلَيْهِ قَطْعَ السَّبِيلِ. فَقَالَ: يَا عدي هَل رَأَيْتَ الْحِيرَةَ؟ فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ فَلَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَلَئِنْ طَالَتْ بك حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ كُنُوزُ كِسْرَى وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يَخْرُجُ مِلْءَ كَفِّهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهُ فَلَا يجد أحدا يقبله مِنْهُ وَلَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ فَلَيَقُولَنَّ: أَلَمْ أَبْعَثْ إِليك رَسُولا فليبلغك؟ فَيَقُولُ: بَلَى. فَيَقُولُ: أَلَمْ أُعْطِكَ مَالًا وَأُفْضِلْ عَلَيْكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ قَالَ عَدِيٌّ: فَرَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ وَكُنْتُ فِيمَنِ افْتَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكُمْ حَيَاةٌ لَتَرَوُنَّ مَا قَالَ النَّبِيُّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَخْرُجُ ملْء كفيه». رَوَاهُ البُخَارِيّ
الترجمة الإنجليزية
'Adi ibn Hatim (may Allah be pleased with him) reported: While I was with the Prophet (peace be upon him), a man came to him and complained of poverty. Then another came and complained of highway robbery. He said: 'O 'Adi, have you seen al-Hirah? If your life is prolonged, you will see a woman travelling in her howdah from al-Hirah until she performs Tawaf around the Ka'bah, fearing no one but Allah. And if your life is prolonged, the treasures of Kisra will be conquered. And if your life is prolonged, you will see a man coming out with a handful of gold or silver, seeking someone to accept it from him, but he will find no one to accept it. And each one of you will meet Allah on the Day of Resurrection with no interpreter between him and Allah to translate for him. He will say: Did I not send you a Messenger to convey to you? He will say: Yes. He will say: Did I not give you wealth and bestow favors upon you? He will say: Yes. Then he will look to his right and see nothing but Hellfire, and he will look to his left and see nothing but Hellfire. Guard yourselves against the Fire, even if with half a date. And whoever cannot find even that, then with a kind word.' 'Adi said: I saw the woman travelling in her howdah from al-Hirah until she performed Tawaf around the Ka'bah, fearing no one but Allah. And I was among those who conquered the treasures of Kisra ibn Hurmuz. And if your lives are prolonged, you will surely see what the Prophet Abu al-Qasim (peace be upon him) said: 'A man will come out with a handful.' Narrated by al-Bukhari.
الترجمة الأردية
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک آدمی آپ کے پاس آیا تو اس نے فاقے کی شکایت کی، پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے رہزنی کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”عدی! کیا تو نے حیرہ دیکھا ہے؟ اگر تیری عمر دراز ہوئی تو تم دیکھو گے عورت حیرہ (کوفے کے پاس ایک بستی) سے ہودج میں سوار ہو کر آئے گی اور وہ کعبہ کا طواف کرے گی، اسے اس دوران اللہ کے سوا کسی کا ڈر خوف نہیں ہو گا۔ اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم پر کسریٰ کے خزانے کھول دیے جائیں گے، اور اگر تم کچھ اور دنوں تک زندہ رہے تو تم دیکھو گے کہ آدمی ہاتھ میں سونا یا چاندی لے کر ایسے آدمی کی تلاش میں نکلے گا جو اسے قبول کر لے لیکن اسے ایسا کوئی آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے، اور تم میں سے ہر ایک قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کرے گا کہ اس وقت اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا جو کہ اس کی ترجمانی کر سکے، وہ فرمائے گا: کیا میں نے تیری طرف رسول نہیں بھیجے تھے کہ وہ تیری طرف میرا پیغام پہنچائے؟ وہ شخص کہے گا، کیوں نہیں ضرور آئے تھے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور میں نے تجھے فضیلت عطا نہیں کی تھی؟ وہ عرض کرے گا: کیوں نہیں، ضرور عطا کی تھی، وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی، پھر وہ اپنے بائیں دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی۔ جہنم سے بچ جاؤ، خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی ہو، چنانچہ جو شخص یہ بھی نہ پائے تو وہ اچھی بات کے ذریعے (آگ سے بچ جائے)۔“عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ہودج میں سوار عورت کو دیکھا کہ وہ حیرہ سے آئی اور اس نے کعبہ کا طواف کیا، اور اسے اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر خوف نہیں تھا، اور جن کے لیے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے کھولے گئے میں بھی ان میں موجود تھا، اور اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم وہ کچھ ضرور دیکھو گے، جس کی ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ”ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونا اور چاندی لے کر نکلے گا۔“رواہ البخاری۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5857]
