العربية (الأصل)
وَعَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ»فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهِ فَأَلْبَسَهَا. قَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي»وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ. فَقَالَ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ هَذَا سِنَاهْ»وَهِيَ بالحبشيَّةِ حسنَة. قَالَت: فذهبتُ أَلعبُ بخاتمِ النبوَّةِ فز برني أُبَيٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دعها». رَوَاهُ البُخَارِيّ
الترجمة الإنجليزية
Umm Khalid bint Khalid ibn Sa'id (may Allah be pleased with her) reported: The Prophet (peace be upon him) was brought some garments among which was a small black khamisa (a garment with markings). He said: 'Bring Umm Khalid to me.' She was brought, carried (as she was a young child). He took the khamisa in his hand and dressed her with it, and said: 'May you wear it out and replace it, then wear it out and replace it.' It had green or yellow markings on it. He said: 'O Umm Khalid, this is sanah,' which means 'beautiful' in Abyssinian. She said: I began playing with the Seal of Prophethood, and my father scolded me. The Messenger of Allah (peace be upon him) said: 'Leave her.' Narrated by al-Bukhari.
الترجمة الأردية
ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے ان میں ایک چھوٹی سی کالی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”ام خالد کو میرے پاس لاؤ، اسے اٹھا کر لایا گیا، آپ نے اپنے دست مبارک سے وہ چادر پکڑی اور اسے پہنا دی، اور فرمایا:”تم اسے بوسیدہ کرو اور تم اسے پرانا کرو (دیر تک جیتی رہو)، تم اسے بوسیدہ کرو اور اسے پرانا کرو۔“اس (چادر) میں سبز یا زرد رنگ کے نشانات تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”ام خالد! یہ”سناہ“ہے۔“اور یہ (سناہ) حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی خوبصورت؟ وہ بیان کرتی ہیں، میں مہر نبوت کے ساتھ کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اسے چھوڑ دو۔“رواہ البخاری۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفضائل والشمائل/حدیث: 5781]
