العربية (الأصل)
وَعَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ: حَدَّثَنَا: «إِنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ عَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ». وَحَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا قَالَ: يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ أَثَرُهَا مِثْلُ أَثَرِ الْوَكْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ قتقبض فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ وَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ وَلَا يَكَادُ أَحَدٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ فَيُقَالُ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا وَيُقَالُ لِلرَّجُلِ: مَا أَعْقَلَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَجْلَدُهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
الترجمة الإنجليزية
Abdullah ibn Mas'ud reported that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "At the end of time, there will come a people who are young in age and foolish in thinking. They will speak with the best of what people say, but they will pass through Islam as an arrow passes through its target. Their faith will not go beyond their throats. Wherever you encounter them, kill them, for killing them will bring reward on the Day of Resurrection for those who kill them." Agreed upon.
الترجمة الأردية
حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں دو حدیثیں بیان کیں، میں نے ان میں سے ایک تو دیکھ لی جبکہ دوسری کا انتظار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حدیث بیان کی کہ امانت (ایمان داری) آدمیوں کے دلوں کی جڑ (فطرت) میں اتری، پھر انہوں نے قرآن سے سیکھا، پھر سنت سے۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس (ایمان) کے اٹھ جانے کے متعلق ہمیں حدیث بیان کی، فرمایا:”آدمی غافل ہو گا تو ایمان اس کے دل سے اٹھا لیا جائے گا، اس کا نشان نقطے کی طرح رہ جائے گا، پھر وہ دوبارہ غافل ہو گا تو اس (ایمان) کو اٹھا لیا جائے گا تو آبلے کی طرح اس پر نشان رہ جائے گا جیسے تو نے اپنے پاؤں پر انگارہ لڑھکایا ہو، وہ آبلہ بن جائے اور تو اسے پھولا ہوا دیکھے حالانکہ اس میں کوئی چیز نہیں، اور لوگ صبح کریں گے اور کوئی ایک بھی امانت ادا نہیں کرے گا، کہا جائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص ہے، اور کسی اور آدمی کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ کس قدر عقل مند ہے، اس کا کتنا ظرف ہے اور وہ کس قدر برداشت والا ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں ہو گا۔“متفق علیہ۔[مشكوة المصابيح/كتاب الفتن/حدیث: 5381]
