العربية (الأصل)
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «ثَلَاث من أَصْلِ الْإِيمَانِ الْكَفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله وَلَا نكفره بذنب وَلَا نخرجهُ من الْإِسْلَام بِعَمَل وَالْجِهَادُ مَاضٍ مُنْذُ بَعَثَنِي اللَّهُ إِلَى أَنْ يُقَاتل آخر أمتِي الدَّجَّالَ لَا يُبْطِلُهُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادل وَالْإِيمَان بالأقدار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas reported God’s messenger as saying, “Three matters pertain to the root of faith:no molestation of one who says there is no god but God, neither declaring him an infidel because of a sin, nor excommunicating him from Islam because of an action; jihad continues from the time God sent me till the last of this people fights with the dajjal, being annulled neither by the tyranny of a tyrannical ruler nor the justice of a just one; and belief in God’s decrees.” Abu Dawud transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایمان کی جڑ تین باتیں ہیں: جو لا الہ الا اللہ کہے اسے تکلیف نہ دو، کسی گناہ کی وجہ سے اسے کافر نہ کہو اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اسے اسلام سے خارج کرو۔ جہاد جاری ہے جب سے اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس وقت تک جب تک اس امت کا آخری شخص دجال سے لڑے، نہ کسی ظالم کا ظلم اسے باطل کرے اور نہ کسی عادل کا عدل۔ اور تقدیر پر ایمان لانا۔ (ابو داؤد)
