العربية (الأصل)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شاكراً: مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا. وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ: «أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ»فِي بَابٍ بَعْدَ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ
الترجمة الإنجليزية
Amr ibn Shu'ayb, from his father, from his grandfather, reported from the Messenger of Allah (peace be upon him) who said: "There are two qualities; whoever possesses them, Allah records him as grateful and patient: one who looks at those above him in matters of religion and follows their example, and looks at those below him in worldly matters and praises Allah for the favors He has bestowed upon him — Allah records him as grateful and patient. But whoever looks at those below him in religion and at those above him in worldly matters, and grieves over what he has missed, Allah does not record him as grateful or patient." Narrated by al-Tirmidhi. And the hadith of Abu Sa'id: "Rejoice, O assembly of poor Emigrants" is mentioned in the chapter after Fada'il al-Qur'an.
الترجمة الأردية
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”دو خصلتیں جس شخص میں ہوں اللہ اسے شاکر صابر لکھ دیتا ہے، جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھتا ہے اور پھر اس کی اقتدا کرتا ہے، اور دنیا کے معاملے میں وہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھتا ہے اور اللہ نے جو اس کو اس پر فضیلت عطا کی ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، تو اللہ اسے شکر گزار صبر کرنے والا لکھ دیتا ہے، اور جو شخص اپنے دین کے معاملے میں اپنے سے کم تر کو اور دنیا کے معاملے میں اپنے سے برتر کو دیکھتا ہے اور جو چیز اسے نہیں ملی اس پر افسوس کرتا ہے تو اللہ اسے شاکر و صابر نہیں لکھتا۔“اسنادہ ضعیف، رواہ الترمذی۔ اور ابوسعید سے مروی حدیث:”مہاجرین کی فقیر جماعت خوش ہو جاؤ“فضائل القرآن کے باب کے بعد ذکر کی گئی ہے۔[مشكوة المصابيح/كتاب الرقاق/حدیث: 5256]
