العربية (الأصل)
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الْمَعْرُوفَ وَالْمُنْكَرَ خَلِيقَتَانِ تُنْصَبَانِ لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَمَّا الْمَعْرُوفُ فَيُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ وَيُوعِدُهُمُ الْخَيْرَ وَأَمَّا الْمُنْكَرُ فَيَقُولُ: إِلَيْكُمْ إِلَيْكُمْ وَمَا يَسْتَطِيعُونَ لَهُ إِلَّا لُزُومًا «. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيّ فِي»شعب الإِيمان
الترجمة الإنجليزية
Abu Ubaidah ibn al-Jarrah reported: "I said: 'O Messenger of Allah, which people will be most severely punished on the Day of Resurrection?' He said: 'A man whom Allah kills through the hand of one of the Messengers, or who kills a Prophet. And a leader of misguidance, and a maker of images.'"
الترجمة الأردية
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے! بے شک نیکی اور برائی دو (الگ الگ) مخلوق ہیں، روز قیامت انہیں لوگوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، چنانچہ نیکی تو اپنے ساتھیوں (یعنی نیکوکاروں) کو خوشخبری دے گی اور ان سے خیر کا وعدہ کرے گی، جبکہ برائی کہے گی: دور رہو، دور رہو، لیکن وہ (برائی کرنے والے) اس سے جدا نہیں ہو سکیں گے۔“اسنادہ ضعیف، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 5154]
