العربية (الأصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانَةً تُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا وَصِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا. قَالَ: «هِيَ فِي النَّارِ». قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ فُلَانَةً تُذْكَرُ قِلَّةَ صِيَامِهَا وَصَدَقَتِهَا وَصَلَاتِهَا وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ وَلَا تؤذي جِيرَانَهَا. قَالَ: «هِيَ فِي الْجَنَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيّ فِي «شعب الْإِيمَان»
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurairah reported: A man said: "O Messenger of Allah, such and such a woman is known for her abundant prayers, fasting, and charity, but she harms her neighbors with her tongue." He said: "She is in the Fire." He said: "O Messenger of Allah, such and such a woman is known for her minimal fasting and charity, and her food offerings are limited to pieces of dried curd, but she does not harm her neighbors." He said: "She is in Paradise."
الترجمة الأردية
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں عورت اپنی نمازوں، روزوں اور صدقات کی کثرت کے حوالے سے مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان درازی سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”وہ جہنمی ہے۔“اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فلاں عورت اپنی نمازوں، روزوں اور صدقات کی قلت کے حوالے سے مشہور ہے، اور وہ پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے اور وہ اپنی زبان درازی کے ذریعے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف نہیں پہنچاتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”وہ جنتی ہے۔“اسنادہ صحیح، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4992]
