العربية (الأصل)
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ صَلَّيَا صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَكَانَا صَائِمَيْنِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: «أَعِيدَا وُضُوءَكُمَا وَصَلَاتَكُمَا وامْضِيا فِي صومكما واقضيا يَوْمًا آخَرَ». قَالَا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «اغتبتم فلَانا»
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurairah reported that the Messenger of Allah, peace be upon him, said: "Let none of you say: 'Feed your lord (rabbaka),' 'Help your lord perform ablution,' 'Give your lord water.' Rather let him say: 'My master (sayyidi)' or 'My guardian (mawlaya).' And let none of you say: 'My slave (abdi)' or 'My slave-girl (amati),' but rather say: 'My boy (fataya),' 'My girl (fatati),' and 'My lad (ghulami).'"
الترجمة الأردية
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی جبکہ وہ روزے سے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”تم دونوں اپنا وضو دوبارہ کرو، نماز دہراؤ اور روزہ پورا کرو، اور کسی دوسرے روز اس کی قضا دو۔“ان دونوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے۔“اسنادہ ضعیف، رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔[مشكوة المصابيح/كتاب الآداب/حدیث: 4873]
