العربية (الأصل)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَخِي اسْتَطْلَقَ بَطْنُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسقيه عسَلاً» فَسَقَاهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ لَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ جَاءَ الرَّابِعَةَ فَقَالَ: «اسْقِهِ عَسَلًا» . فَقَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ اللَّهُ وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ» . فَسَقَاهُ فَبَرَأَ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abu Sa'id al-Khudri said that a man came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and told him his brother's bowels were loose, so God’s messenger told him to give him honey to drink . He did so and then came and said, “I gave it him to drink but it has only made his bowels more loose.” This he said three times, and when he came a fourth time and was told to give him honey to drink he said, “I have done so, but it has only increased the looseness.” the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) replied, “God has spoken the truth and your brother’s bowels have lied.” He then gave him it to drink and he recovered. (Bukhari and Muslim.)
الترجمة الأردية
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میرے بھائی کا پیٹ خراب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ اس نے پلایا، پھر آ کر عرض کیا: میں نے پلایا لیکن دست اور بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا۔ پھر چوتھی بار آیا تو فرمایا: اسے شہد پلاؤ۔ عرض کیا: میں نے پلایا مگر دست اور بڑھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا اور تمہارے بھائی کے پیٹ نے جھوٹ بولا۔ پھر اسے پلایا تو شفا ہو گئی۔ بخاری و مسلم نے روایت کیا۔
