العربية (الأصل)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ: «مَا هَذَا السَّرَفُ يَا سَعْدُ» . قَالَ: أَفِي الْوُضُوءِ سَرَفٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ وَإِنْ كُنْتَ عَلَى نَهْرٍ جَارٍ» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
الترجمة الإنجليزية
‘Abdallah b. ‘Amr b. al-‘As said that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came upon Sa'd when he was performing ablution and asked, “What is the meaning of this extravagance, Sa'd?” He replied, “Is there extravagance in ablution?” He said, “Yes, even if you are beside a flowing river.’’ Ahmad and Ibn Majah transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے جو وضو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سعد! یہ اسراف (فضول خرچی) کیا ہے؟ عرض کیا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ ارشاد فرمایا: ہاں، چاہے تم بہتی نہر کے کنارے ہو۔ (احمد، ابن ماجہ)
