العربية (الأصل)
وَعَن طَاوُوس عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ فِي رَمْيٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِالْحِجَارَةِ أَوْ جَلْدٍ بِالسِّيَاطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَهُوَ خَطَأٌ عقله الْخَطَأِ وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ
الترجمة الإنجليزية
Ta’us, on the authority of Ibn ‘Abbas, reported God’s Messenger as saying, “If anyone is killed in error when people are throwing stones, or by beating with whips, or striking with a stick, it is accidental and the compensation for accidental death is due.* But if anyone kills someone deliberately retaliation is due, and if anyone tries to prevent it God’s curse and anger will rest on him, and neither supererogatory nor obligatory acts will be accepted from him.” Abu Dawud and Nasa’i transmitted it. *These are instances in which the actual person who killed him is not clearly known, or where there was no intention to kill.
الترجمة الأردية
طاؤس حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «جو شخص اندھا دھند قتل ہو جائے، ان کے درمیان پتھروں کی مار، کوڑوں کی مار یا لاٹھی کی مار میں، تو یہ غلطی سے قتل ہے اور اس کی دیت غلطی والی ہے۔ اور جس نے جان بوجھ کر قتل کیا تو اس میں قصاص ہے اور جو اس میں رکاوٹ ڈالے تو اس پر اللہ کی لعنت اور غضب ہے، اس سے نہ نفل قبول ہوں گے نہ فرض۔» حضرت ابوداؤد اور نسائی نے اسے روایت کیا۔
