العربية (الأصل)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَيْخًا يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَقَالَ: «مَا بَالُ هَذَا؟» قَالُوا: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى بَيت الله قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفسه لَغَنِيّ» . وَأمره أَن يركب. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَن نذرك»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas said that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) saw an old man being supported between his sons, and on asking what was the matter with him and being told that he had taken a vow to walk,* he said, “God most high has no need that this man should punish himself,” and he ordered him to ride. In a version by Muslim on Hadrat Abu Huraira’s authority he said, “Ride, old man, for God is not in need of you and your vow.” *Mirqat, iii, 565 explains this as a vow to walk to the Ka’ba. (Bukhari and Muslim).
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے سہارے چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: «اسے کیا ہوا؟» لوگوں نے عرض کیا: اس نے پیدل چل کر بیت اللہ جانے کی نذر مانی ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے۔» اور اسے سواری پر بیٹھنے کا حکم فرمایا۔ مسلم کی ایک روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «سوار ہو جاؤ بوڑھے! بے شک اللہ تعالیٰ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے۔» (بخاری و مسلم)
