العربية (الأصل)
وَعَنْهَا قَالَتْ: أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم بالأبطحِ حَتَّى فَرَغْتُ فَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ. هَذَا الْحَدِيثُ مَا وَجَدْتُهُ بِرِوَايَةِ الشَّيْخَيْنِ بَلْ بِرِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ مَعَ اخْتِلَاف يسير فِي آخِره
الترجمة الإنجليزية
She said:I put on the ihram at at-Tan‘im for an ’umra , then entered and performed my ’umra . God’s messenger waited for me in al-Abtah till I had finished, then ordered the people to move on. He set out, and when passing the House he performed the circumambulation before the morning prayer, then went off to Medina. I did not find this tradition in what the two shaikhs transmitted, but in Abu Dawud’s version, with a slight difference at the end.
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا، پھر داخل ہوئی اور اپنا عمرہ ادا کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ابطح میں میرا انتظار فرماتے رہے جب تک میں فارغ نہ ہوئی۔ پھر آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا اور نکلے، بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور نمازِ فجر سے پہلے طواف فرمایا، پھر مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ (یہ حدیث صحیحین میں نہیں ملی بلکہ حضرت ابوداؤد کی روایت میں ہے۔)
