العربية (الأصل)
لإرساله وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا رُئِيَ الشَّيْطَانُ يَوْمًا هُوَ فِيهِ أَصْغَرُ وَلَا أَدْحَرُ وَلَا أَحْقَرُ وَلَا أَغْيَظُ مِنْهُ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَا يَرَى مِنْ تَنَزُّلِ الرَّحْمَةِ وَتَجَاوُزِ اللَّهِ عَنِ الذُّنُوبِ الْعِظَامِ إِلَّا مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ» . فَقِيلَ: مَا رُئِيَ يَوْمَ بَدْرٍ؟ قَالَ: «فَإِنَّهُ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ يَزَعُ الْمَلَائِكَةَ» . رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Talha b. ‘Ubaidallah b. Kariz reported God’s messenger as saying, “On no day is the devil seen more insignificant, more violently repelled, more ignominious, or more angry than on the day of ‘Arafa, that being due to no other reason than the mercy he sees being sent down and God’s forgiveness of great sins, except for what was seen on the day of Badr.” He was asked what was seen on the day of Badr and replied,( This is a translation of the text in the Damascus edition. Mirqat, 3, 219 omits ‘He was :asked ... replied’. Muwatta’, Hajj, 245 has, ‘Except for what he saw on the day of Badr.’ God’s messenger was asked what he saw on the day of Badr and replied ...) “He saw Gabriel keeping the angels in battle-order.” Malik transmitted it in mursal form, and it occurs in Sharh as-sunna with the wording of al-Masabih.
الترجمة الأردية
حضرت طلحہ بن عبیداللہ بن کریز سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن شیطان چھوٹا، ذلیل، حقیر اور غضبناک نظر نہیں آتا، یہ صرف اس لیے ہے کہ وہ رحمت کا نزول اور اللہ تعالیٰ کا بڑے بڑے گناہوں سے درگزر فرمانا دیکھتا ہے، سوائے جو اسے بدر کے دن دکھایا گیا۔ پوچھا گیا کہ بدر کے دن کیا دیکھا؟ آپ نے ارشاد فرمایا: اس نے حضرت جبریل علیہ السلام کو فرشتوں کی صف بندی کرتے دیکھا تھا۔ (مالک نے اسے مرسلاً روایت کیا اور شرح السنۃ میں مصابیح کے الفاظ سے ہے۔)
