العربية (الأصل)
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قوما يتدارؤون فِي الْقُرْآنِ فَقَالَ: " إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِهَذَا: ضَرَبُوا كِتَابَ اللَّهِ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ وَإِنَّمَا نَزَلَ كِتَابُ اللَّهِ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْهُ فَقُولُوا وَمَا جَهِلْتُمْ فَكِلُوهُ إِلَى عَالِمِهِ ". رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
الترجمة الإنجليزية
‘Amr b. Shu'aib quoted the authority of his father from his grandfather who said that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) heard some people disagreeing about the Qur’an and said, “It was just on this account that your predecessors perished:they set parts of God’s Book against others, whereas God's Book was sent down only to be consistent; so do not use parts to falsify others. Speak about as much of it as you know, but where you are ignorant entrust it to him who knows.” Ahmad and Ibn Majah transmitted it.
الترجمة الأردية
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو قرآن کے بارے میں بحث کرتے سنا تو ارشاد فرمایا: اسی وجہ سے تم سے پہلے کے لوگ ہلاک ہوئے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے ایک حصے کو دوسرے حصے کے مقابلے میں رکھا۔ اللہ کی کتاب اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرے، پس ایک حصے کو دوسرے حصے سے نہ جھٹلاؤ اور جو تم جانتے ہو بیان کرو اور جو نہیں جانتے اسے اس کے جاننے والے کے حوالے کرو۔ (احمد، ابن ماجہ)
