العربية (الأصل)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَقْرَأَنِي جِبْرِيل على حرف فَرَاجعه فَلم أزل استزيده ويزيدني حَتَّى انْتهى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ» . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: بَلَغَنِي أَنَّ تِلْكَ السَّبْعَةَ الْأَحْرُفَ إِنَّمَا هِيَ فِي الْأَمْرِ تَكُونُ وَاحِدًا لَا تَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حرَام
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn ‘Abbās reported God’s messenger as saying, “Gabriel taught me to recite in one mode, and when I replied to him and kept asking him to give me more he did so till he reached seven modes." Ibn Shihāb said he had heard that those seven modes are essentially one, not differing about what is permitted and what is prohibited. (Bukhārī and Muslim.)
الترجمة الأردية
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبریل نے مجھے ایک حرف پر پڑھایا۔ میں ان سے بار بار مراجعت کرتا رہا اور زیادہ مانگتا رہا اور وہ بڑھاتے رہے یہاں تک کہ سات حرفوں تک پہنچ گئے۔ ابن شہاب فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا کہ وہ سات حرف دراصل ایک ہی معنی رکھتے ہیں، حلال و حرام میں اختلاف نہیں ہے۔ (بخاری و مسلم)
