العربية (الأصل)
عَن كثير بن قيس قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِد دمشق فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنِّي جِئْتُكَ مِنْ مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ قَالَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا سَلَكَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَإِنَّ الْعَالِمَ يسْتَغْفر لَهُ من فِي السَّمَوَات وَمَنْ فِي الْأَرْضِ وَالْحِيتَانُ فِي جَوْفِ الْمَاءِ وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَسَمَّاهُ التِّرْمِذِيُّ قَيْسَ بن كثير
الترجمة الإنجليزية
Kathir b. Qais told how, when he was sitting with Hadrat Abu Darda' in the mosque of Damascus, a man came to him and said, “Hadrat Abu Darda', I have come to you from the town of the Messenger for a tradition I have heard that you relate from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). I have come for no other purpose.” He replied that he had heard God’s messenger say, “ If anyone travels on a road in search of knowledge God will cause him to travel on one of the roads of paradise, the angels will lower their wings from good pleasure with one who seeks knowledge, and the inhabitants of the heavens and the earth and the fish in the depth of the water will ask forgiveness for him. The superiority of the learned man over the devout man is like that of the moon on the night when it is full over the rest of the stars. The learned are the heirs of the prophets who leave neither dinar nor dirham, leaving only knowledge, and he who accepts it accepts an abundant portion.” Ahmad, Tirmidhi, Abu Dawud, Ibn Majah and Darimi transmitted it, Tirmidhi calling Him Qais b. Kathir.
الترجمة الأردية
کثیر بن قیس فرماتے ہیں: میں دمشق کی مسجد میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہا: اے حضرت ابو الدرداء! میں مدینہ رسول سے ایک حدیث لینے آیا ہوں جو آپ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور میں کسی اور کام سے نہیں آیا۔ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا: جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دے گا۔ فرشتے طالب علم کی رضامندی سے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ عالم کے لیے آسمانوں اور زمین میں ہر چیز مغفرت مانگتی ہے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں بھی۔ عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کی فضیلت باقی تمام ستاروں پر۔ علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے دینار و درہم نہیں چھوڑا بلکہ علم کی میراث چھوڑی ہے، جس نے اسے حاصل کیا اس نے بڑا حصہ پایا۔ (ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
