العربية (الأصل)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَسْأَلَتُهُ فِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: «خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
الترجمة الإنجليزية
‘Abdallah b. Mas'ud reported God’s messenger as saying, “He who begs from people when he has a sufficiency will come on the day of resurrection with his begging showing itself as scrapes, scratching or lacerations on his face.” On being asked what constituted a sufficiency, God’s messenger replied that it was fifty dirhams or their value in gold. Abu Dawud, Tirmidhi, Nasa’i, Ibn Majah and Darimi transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص بے نیازی رکھتے ہوئے لوگوں سے مانگے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر خراشیں، کھرچنیں اور زخم ہوں گے۔ پوچھا گیا: بے نیازی کی حد کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا ان کی مقدار کا سونا۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ و دارمی)
