العربية (الأصل)
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا لِخَمْسَةٍ: لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَارِمٍ أَوْ لِرَجُلٍ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ لِرَجُلٍ كَانَ لَهُ جَارٌ مِسْكِينٌ فَتَصَدَّقَ عَلَى الْمِسْكِينِ فَأَهْدَى الْمِسْكِين للغني ". رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: «أوابن السَّبِيل»
الترجمة الإنجليزية
‘Ata’ b. Yasar reported in mursal form that God’s messenger said, ''Sadaqa may not be given to a rich man, with the exception of five classes:one who fights in God’s path, or one who collects it, or a debtor, a man who buys it with his money, or a man who has a poor neighbour a no has been given sadaqa and gives a present to the rich man.” Malik and Abu Dawud transmitted it. A version by Abu Dawud from Hadrat Abu Sa'id has ‘‘or a traveller.”
الترجمة الأردية
حضرت عطاء بن یسار مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مالدار شخص کو صدقہ جائز نہیں سوائے پانچ قسم کے لوگوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، یا صدقہ وصول کرنے والا، یا قرض دار، یا وہ شخص جس نے اپنے مال سے اسے خریدا ہو، یا وہ شخص جس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ ملا ہو اور وہ مالدار شخص کو ہدیہ دے۔ مالک اور ابو داؤد نے اسے روایت کیا۔ ابو داؤد کی ایک روایت حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے جس میں "یا مسافر" بھی ہے۔
