العربية (الأصل)
وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَتَاهُ عُمَرُ فَقَالَ إِنَّا نَسْمَعُ أَحَادِيثَ مِنْ يَهُودَ تُعْجِبُنَا أَفْتَرَى أَنْ نَكْتُبَ بَعْضَهَا؟ فَقَالَ: «أَمُتَهَوِّكُونَ أَنْتُمْ كَمَا تَهَوَّكَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ لَقَدْ جِئْتُكُمْ بِهَا بَيْضَاءَ نَقِيَّةً وَلَوْ كَانَ مُوسَى حَيًّا مَا وَسِعَهُ إِلَّا اتِّبَاعِي» . رَوَاهُ أَحْمد وَالْبَيْهَقِيّ فِي كتاب شعب الايمان
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Jabir told that when ‘Umar came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) saying, “We hear from Jews traditions which charm us, so do you think we should write down some of them ?” he replied, “Are you in a state of confusion as the Jews and the Christians were? I have brought them to you white and pure, and if Moses (upon him be peace) were alive he would feel it absolutely necessary to follow me.” Ahmad transmitted it, and also Baihaqi in Shu’ab al-iman.
الترجمة الأردية
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہم یہودیوں سے ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں، کیا ہم ان میں سے کچھ لکھ لیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم بھی حیرت میں ہو جیسے یہود و نصاریٰ حیرت میں ہیں؟ میں تمہارے لیے روشن اور واضح دین لایا ہوں۔ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کرنا پڑتی۔ (احمد، بیہقی)
