العربية (الأصل)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ» . قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى أَفَأُضَحِّي بِهَا؟ قَالَ: «لَا وَلَكِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ مِنْ شَارِبِكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ
الترجمة الإنجليزية
‘Abdallah b. ‘Amr reported God’s Messenger as saying, “I have been commanded to observe the day of sacrifice as a festival which God has appointed for this people.” A man asked, “Tell me, Messenger of God, if I can get only a female camel lent for milking, am I to sacrifice it?” He replied, “No, but take some of your hair and nails, clip your moustache and shave the hair over your pubes, and that will be a complete sacrifice for you in God’s sight.” Abu Dawud and Nasa’i transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یومِ اضحیٰ کو عید بنانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میرے پاس صرف منیحہ (ادھار لی ہوئی) بکری ہو تو کیا اسے قربانی کروں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: نہیں، لیکن اپنے بال، ناخن اور مونچھیں کاٹو اور زیرِ ناف بال صاف کرو، بس یہی تمہاری اللہ تعالیٰ کے نزدیک پوری قربانی ہے۔ (ابو داؤد، نسائی)
