العربية (الأصل)
وَعَن رَافع بن خديج قَالَ: قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وهم يأبرون النَّخْلَ فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُونَ» قَالُوا كُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ «لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا» فَتَرَكُوهُ فنفضت قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْي فَإِنَّمَا أَنا بشر» . رَوَاهُ مُسلم
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Rafi‘ b. Khadij said:God’s Prophet came to Medina when they were fecundating the palm trees. He asked, “What are you doing?” and they replied, “We have been accustomed to do it.” He said, “Perhaps if you did not do it it would be better so they gave it up, but the crop was diminished. They mentioned that to him and he said, “I am only a human being. When I issue any command to you regarding your religion, accept it; but when I issue any command to you based on my own opinion, I am merely a human being.” Muslim transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو لوگ کھجور کے درختوں میں پیوند لگا رہے تھے۔ آپ نے پوچھا: یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: ہم ہمیشہ سے ایسا کرتے آئے ہیں۔ فرمایا: شاید تم ایسا نہ کرو تو بہتر ہو۔ لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پیداوار کم ہوئی۔ انہوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو ارشاد فرمایا: میں صرف ایک آدمی ہوں۔ جب میں تمہیں تمہارے دین کے بارے میں کوئی حکم دوں تو اسے لے لو اور جب اپنی دنیاوی رائے سے کچھ کہوں تو میں صرف ایک انسان ہوں۔ (مسلم)
