العربية (الأصل)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعْرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا» وَفِي رِوَايَةٍ «فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يَقْلِمَنَّ ظُفْرًا» وَفِي رِوَايَةٍ «مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ وَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ شَعْرِهِ وَلَا مِنْ أَظْفَارِهِ» . رَوَاهُ مُسلم
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Umm Salama reported God’s Messenger as saying, "When the ten days* come and one of you intends to make sacrifice, he must not touch any of its hair or skin.” A version says, “He must not take hairs or clip nails.” Another says, “If anyone sees the new moon of Dhul Hijja and intends to sacrifice, he must not take any of its hairs or nails.” * The period to which reference is made is the first ten days of Dhul Hijjah. The day of sacrifice is the tenth. Muslim transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین اُمّ سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب ذوالحجہ کے دس دن آ جائیں اور تم میں سے کوئی قربانی کرنا چاہے تو وہ اپنے بالوں اور کھال کو ہاتھ نہ لگائے (یعنی بال نہ کاٹے اور ناخن نہ ترشے)۔ ایک روایت میں ہے: اپنے بالوں اور ناخنوں سے کچھ نہ لے۔ (مسلم)
