العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي زِيَادٌ، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَنْ، يَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُرِيَ أَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَهُ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ فَكَأَنَّهُ تَقَاصَرَ أَعْمَارَ أُمَّتِهِ أَنْ لاَ يَبْلُغُوا مِنَ الْعَمَلِ مِثْلَ الَّذِي بَلَغَ غَيْرُهُمْ فِي طُولِ الْعُمْرِ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ .
الترجمة الإنجليزية
Ziyad related to me from Malik that he had heard a man he trusted of the people of knowledge say, "The Beloved Messenger of Allah was shown the lifespans of the people (who had gone) before him, or what Allah willed of that, and it was as if the lives of the people of his community had become too short for them to be able to do as many good actions as others before them had been able to do with their long lives, so Allah gave him Laylat al- Qadr, which is better than a thousand months."
الترجمة الأردية
امام مالک کو پہنچا کہ چند صحابہ نے شب قدر کو دیکھا خواب میں رمضان کی اخیر سات راتوں میں تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میں دیکھتا ہوں کہ خواب تمہارا موافق ہوا میرے خواب کے رمضان کی اخیر سات راتوں میں سو جو کوئی تم میں سے شب قدر کو ڈھونڈنا چاہے تو ڈھونڈے اخیر کی سات راتوں میں ۔ امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا ایک معتبر شخص سے اہل علم میں سے کہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اگلے لوگوں کی عمریں بتلائیں گئیں جتنا اللہ کو منظور تھا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کی عمروں کو کم سمجھا اور خیال کیا کہ یہ لوگ ان کے برابر عمل نہ کر سکیں گے پس دی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شب قدر جو بہتر ہے ہزار مہینے سے ۔ امام مالک کو پہنچا سعید بن مسیب کہتے تھے جو شخص حاضر ہو عشاء کی جماعت میں شب قدر کو تو اس نے ثواب شب قدر کا حاصل کر لیا
