العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ أُدْرِكُ الصَّلاَةَ مَعَ الإِمَامِ أَفَأُصَلِّي مَعَهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ نَعَمْ . فَقَالَ الرَّجُلُ أَيَّتَهُمَا أَجْعَلُ صَلاَتِي فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ أَوَذَلِكَ إِلَيْكَ إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ يَجْعَلُ أَيَّتَهُمَا شَاءَ .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from Nafi that a man asked Abdullah ibn Umar, "Sometimes I pray in my house, and then catch the prayer with the imam. Should I pray with him?" Abdullah ibn Umar said to him, "Yes," and the man said, "Which of them do I make my prayer?" Abdullah ibn Umar said, "Is that up to you? It is up to Allah. He will decide on whichever of them He wishes."
الترجمة الأردية
نافع سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا حضرت عبداللہ بن عمر سے کہ میں نماز پڑھ لیتا ہوں اپنے گھر میں پھر پاتا ہوں جماعت کو ساتھ امام کے کیا پھر پڑھوں ساتھ امام کے کہا حضرت عبداللہ بن عمر نے ہاں کہا اس شخص نے پس دو نمازوں میں کو نسی نماز کو فرض سمجھوں اور کس کو نفل تو جواب دیا حضرت عبداللہ بن عمر نے کہ تجھ کو اس سے کیا مطلب یہ تو اللہ جل جلالہ کا اختیار ہے جس کو چاہے فرض کر دے جس کو چاہے نفل کر دے ۔
